دارالحکومت کیف پر قبضے کی روسی پیشقدمی روک دی, یوکرینی صدر

ویڈیو پیغام میں زیلنسکی نے الزام لگایا ہے کہ ماسکو ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر یوکرین کو کٹھ پتلی ریاست بنانا چاہتا ہے۔

یوکرین کے صدر وولودی میرزیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج نے دارالحکومت کیئف پر قبضے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے روسی پیش قدمی روک دی ہے۔

 زیلنسکی کے مطابق ’ہم نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوج نے دارالحکومت کیئف اور ارد گرد کے مرکزی شہروں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین کے خلاف’میزائل، جنگجو، ڈرونز، توپیں، بکتر بند گاڑیاں، دہشت گرد اور فضائی فورسز تعینات کر دی  ہیں اور’رہائشی علاقوں‘پر حملہ کیا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے لوگ کئی شہروں میں روسی فوجیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن میں جنوبی شہر اوڈیسا، شمال مشرقی شہر خارکیو اور دارالحکومت کیئف شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی شہر لویو اور مغربی اور وسطی یوکرین کے دیگر شہروں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق یوکرین’پہلے‘ہی یورپی یونین میں شامل ہونے کا حق حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کریں۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ روسی حملوں سے تین بچوں سمیت 198 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔  زخمیوں کی تعداد 11 سو سے زیادہ ہے جن میں 33 بچے بھی شامل ہیں

یوکرین کے صدر وولودی میرزیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی افواج سے لڑنے کے لیے مغربی ’شراکت دار‘ ہتھیار بھجوا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیئف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر نے ملک چھوڑنے کی امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ اپنے ملک میں ہی رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں ٹینک شکن گولہ بارود کی ضرورت ہے نہ کہ فرار ہونے کے لیے سواری کی۔‘

تاہم کیئف میں روسی فوجیوں نے کس حد تک پیش قدمی کی ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نےایک بار پھر اس ع کا اعادہ کیا کہ یوکرین کی فوج روسی حملے کا  ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

کیئف کی ایک سڑک پر ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو میں پیغام میں یوکرینی صدر نے کہا کہ انہوں نے شہر نہیں چھوڑا اور یہ دعویٰ کہ یوکرین کی فوج ہتھیار ڈالے گی، سراسر غلط ہے

انہوں نے کہا: ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں گے۔ ہمارا سچ ہی ہمارا ہتھیار ہے اور ہماری سچائی یہ ہے کہ یہ ہماری سرزمین ہے، یہ ہمارا ملک یے، یہ ہمارے بچے ہیں اور ہم ان سب کا دفاع کریں گے۔‘

شہر کی سڑکوں پر ہونے والی جھڑپوں سے پلوں، سکولوں اور رہائشی عمارتوں کوشدید نقصان پہنچاہے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئےہیں۔

یوکرین کے صدر کے مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ ’ہفتے کی صبح تک چھوٹے روسی یونٹوں نے کیف میں داخل ہونے کوشش کی لیکن یوکرین کی افواج نے صورت حال پر قابو پا لیا۔‘

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔