طوبی کو شرعی طور پر طلاق نہیں دی، دوسری شادی ناجائز تصور ہوگی، عامر لیاقت

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور ٹی وی میزبان عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری اہلیہ طوبی کو شرعی طور پر طلاق نہیں دی لہذہ وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی۔

ایف ایچ ایم میگزین کو دئیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نہ تو طوبیٰ انور کو طلاق دی اور نہ وہ خلع پر دستخط کرنےکبھی عدالت گئے۔

عامر لیاقت نے کہا کہ طوبیٰ نے یکطرفہ طور پر عدالت سے آئین پاکستان کے مطابق خلع لی مگر وہ شرعی طور پر اب بھی انکی بیوی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام کے مطابق خلع کے لئے شوہر کی  رضامندی لازمی ہے اسی لیے طوبیٰ انور کی شرعی خلع نہیں ہوئی۔

عامر لیاقت نے کہا کہ اگر طوبیٰ انور نے دوسری شادی کی تو وہ ناجائز تصور ہوگی، وہ گناہ اور زنا ہو جائے گا۔انٹرویو کے دوران سیدہ دانیہ نے کہا ہے کہ انہیں سیدہ طوبی کی گھر واپسی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ طوبی کو اپنی بڑی بہن سمجھتی ہیں کیونکہ میرے شوہر کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔

 انٹرویو کے دوران طوبی کے لئے پیغام دیتے ہوئے  عامر لیاقت نےکہا ہے کہ وہ اپنی زندگی سکون سے گزاریں، نوکری کریں اور جو کرنا چاہیں کریں لیکن دائرہ اسلام سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ طوبی اگر واپس آنا چاہتی ہیں تو ضرور آئیں لیکن اب دانیہ بھی میری زندگی کا حصہ ہے اور وہ ہمیشہ رہیں گی۔

دانیہ کے متعلق بات کرتے ہوئے عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ میں رمضان ٹرانسمیشن اور شوبز میں ہر جگہ دانیہ کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔

طوبیٰ انور
طوبیٰ انور فوٹو انسٹاگرام

دوسری جانب عامر لیاقت  کی سابقہ اہلیہ طوبیٰ انور نے کیا ہے کہ اسلام عورت کو خلع حاصل کرنے کا حق دیتا ہے اور انہوں نے پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عدالت کے ذریعے سے خلع لی ہے, میڈیا پر جو کچھ بھی دعویٰ یا کہا جا رہا ہے وہ حقائق کی غلط تشریح ہے، اور قانون کی عدالت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔